Uncategorized

جنرل راوت کا ہیلی کاپٹر گھنے بادلوں میں پھنس جانے کی وجہ سے گر کر تباہ ہوا

ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت کا ہیلی کاپٹر گزشتہ ماہ گھنے بادلوں میں پھنسے کی وجہ سے اچانک گر کر تباہ ہو گیا تھا اور اس میں کسی تکنیکی خرابی یا تخریب کاری کی سازش نہیں تھی۔
اس حادثے کی تحقیقات کے لیے قائم کورٹ آف انکوائری نے بدھ کو وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو پیش کی گئی رپورٹ میں یہ بات کہی ہے۔ 8 دسمبر کو کنور کے نزدیک اس حادثے میں جنرل راوت، ان کی اہلیہ اور 12 دیگر فوجی اہلکاروں کی موت ہوگئی تھی۔ذرائع کے مطابق حادثے کی تحقیقات کے لیے تینوں سروسز کے افسران کی مشترکہ ٹیم نے رپورٹ میں حادثے کی وجوہات کے ساتھ ساتھ وی آئی پی کے ہیلی کاپٹر سفر کے حوالے سے بھی اہم سفارشات بھی دی ہیں۔
ائر مارشل مانویندر سنگھ کی رہنمائی میں ٹیم نے وزیر دفاع کو حادثے کی وجہ کا بلیو پرنٹ بھی پیش کیا۔ اس موقع پر فضائیہ کے سربراہ وویک رام چودھری اور سیکرٹری دفاع اجے کمار بھی موجود تھے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر کے اچانک گھنے بادلوں میں پھنسنے کی وجہ سے ایک خاص صورتحال ‘کنٹرولڈ فلائٹ انٹو ٹیرین’ پیدا ہوئی جس میں گھنے بادلوں کی وجہ سے پائلٹ کو نظر نہیں آتا اور صورتحال ان کے کنٹرول سے باہر ہوجاتی ہے جس سے ہیلی کاپٹر زمین، پہاڑ یا کسی اور چیز سے ٹکراجاتا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں کسی تکنیکی خرابی یا ہیلی کاپٹر کے سبوتاژ کرنے کی سازش کو مسترد کیا گیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم نے وی آئی پی کے سفر کے سلسلے میں اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) پر نظرثانی کی بھی سفارش کی ہے۔
تحقیقاتی ٹیم نے ایک ماہ سے بھی کم وقت میں رپورٹ پیش کرنے سے قبل تمام پہلوؤں پر شواہد اور بلیک باکس کے ساتھ ساتھ تمام حالات کا مطالعہ کیا ہے۔ تحقیقات میں پائلٹ سے جلد بازی میں کسی قسم کے رابطے کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے۔
واضح رہے کہ اس ہیلی کاپٹر کو خود اڑانے والے ونگ کمانڈر پرتھوی سنگھ چوہان اس حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے اور انہیں خصوصی حالات میں بھی پرواز کرنے کا کافی تجربہ تھا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close