Talk

شادی کی عمر میں اضافہ پر منفی پروپیگنڈاٹھیک نہیں

مکرمی!
حالیہ دنوں مرکزی کابینہ نے لڑکیوں کی شادی کی کم ازکم عمر 18سے بڑھا کر 21سال کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ ایک سال قبل سال 2020 کی آزادی کی تقریر میں وزیراعظم نریندر مودی نے اس کا اعلان کیا تھا۔ نتیجتاً، چائلڈ میرج ایکٹ (2006) کی ممانعت اور دیگر پرسنل قوانین جیسے کہ ہندو میرج ایکٹ، 1955 میں ترمیم کی جائےگی اور حکومت کی طرف سے خصوصی شادی ایکٹ متعارف کرایا جائے گا۔مذکورہ منظوری مرکز کی ورکنگ کمیٹی کی طرف سے دسمبر 2020 میں نیتی آیوگ کو دی گئی سفارشات پر مبنی ہے، جس کی قیادت محترمہ جیا جیٹلی نے کی تھی اور اس معاملہ کی تحقیقات کا کام سونپا گیا تھا۔ مردو خواتین کے تناسب میں لڑکیوں کی کم تعداد رکھنے والی شمالی ہندوستان کی ریاست ہریانہ کی متعدد لڑکیوں نے اس سلسلہ میں وزیراعظم نریندر مودی سے اپیل کی تھی کہ لڑکیوں کی شادی کی کم ازکم عمر میں اضافہ کیا جائے، تاکہ تعلیم مکمل ہوسکے اور لڑکیوں کی پختہ عمر ہوجانے کے بعد ان کی شادی ہو ۔
لڑکیوں کی شادی کی کم ازکم عمر میں اضافہ کے بعد ملے جلے تاثرات سامنے آرہے ہیں۔ سرکاری فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ صنفی مساوات کیلئے ضروری قدم ہے، ساتھ ہی اس سے عمر میں تفاوت کی بنیاد پر ہونےوالے تنازعات سے نمٹنے چھٹکارا ملے گا، مگردوسری طرف جو لوگ قانون پر قانع نہیں ہیں، ان کا کہناہے کہ صنفی مساوات کیلئے عمر کوئی پیمانہ نہیں ہوتاہے۔ انڈین یونین مسلم لیگ نے مخالفت میں تحریک پیش کرتے ہوئے چیلنج کیا ہے، لیگ کا کہناہے کہ سرکار نے دراصل اپنے اس فیصلے سے مسلمانوں کے عائیلی قوانین پر حملہ کیا ہے۔ آل انڈیامجلس اتحادالمسلمین کے رہنما اسدالدین اویسی نے بھی اس پر اپنے تحفظات پیش کرتے ہوئے فیصلے کوعام پدرانہ پن قرار دیا ہے۔آل انڈیا ڈیموکریٹک ویمنز ایسوسی ایشن نے اسے خواتین کو بااختیار بنانے کےلئے ایک ”متغیر حکمت عملی اور ایک بے اثر“ طریقہ کار قرار دیا ہے۔دیگر کچھ افراد اور سماجی تنظیموں نے بھی اس تجویز کی مخالفت کی ہے۔
میرا ماننا ہے کہ مذکورہ قانون سازی کو وسیع تناظر میں دیکھتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی جانی چاہئے کہ سماج کی بہتر تشکیل،صنفی حساسیت پر بیداری اور بچپن کی شادی سے متعلق خطرات اور تحفظ پر جانکاری کو یقینی بنانے کیلئے یہ ضروری ہے۔مزید برآں ہندوستانی مسلم کمیونٹی ترقی کے اشاریہ جات میں خواتین کی نقل و حرکت سب سے کم رہی ہے،اس لئے مسلمانوں کو شادی کی عمر میں اضافہ کے بارے میں منفی اور سیاسی بحثوں میں نہیں پڑنا چاہیے،اس کے بجائے مسلم خواتین کو تعلیم دینے کی زیادہ ضرورت ہے، جس کیلئے عمر میں اضافہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ شادی کی عمر میں اضافہ یقینی طور پر لڑکیوں کو ان کے خوابوں کو حاصل کرنے میں معاون بنے گا۔یہ اجاگر کرنا ضروری ہے کہ مسلم پرسنل لاءہندوستانی مسلم سماج میں ازدواجی معاملات کو کنٹرول کرتا ہے، جو اس موضوع پر قابل عمل تو ہے مگرمذکورہ معاملہ میں غیر واضح ہے۔ اسلامی قانون میں کوئی خاص عمر متعین نہیںالبتہ قرآن کریم نے لڑکیوں کی شادی کےلئے ایک پیشگی شرط کے طور پر بلوغت حاصل کرنے کا حوالہ دیاہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ قانون سازی کو اسلامی قانون کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے اور خواتین کی ترقی کےلئے کام کرنے کی گنجائش موجود ہے۔
 
محمد ہاشم 
چوڑیوالان، جامع مسجد، دہلی- 6
29-12-2021
Attachments area
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close