Uncategorized

ہندو -مسلم کاایک دوسرے کے کام آنا ‘’بھارت کی خوبصورتی‘

 

مکرمی!ہندو کامسلم کے کام آنا اور مسلم کاہندو کے کام آنا ، بھارت کی خوبصورتی ہے۔ حالیہ دنوں جب کرکٹ میں پاکستان سے شکست کے بعد بھارتی کھلاڑی محمد سمیع کو بحیثیت مسلم نشانہ بنایاگیا تو سب سے پہلے بھارتی اسکیپر وراٹ کوہلی نے نشانہ بنانے والوں کی بولتی بند کی۔ اسی طرح کئی مثالیں ہیں جب بھارتی طبقات بلالحاظ مذہب اور برادری ایک دوسرے کی مدد کو سامنے آتے ہیں۔لیکن دوسری طرف کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو گمراہ کن افواہیں پھیلاتے ہیں کہ بھارت میں مسلمان یا دوسری اقلیتیں ظلم کی شکار ہیں۔ بھارت میں ہندو یا مسلمان ،سکھ یا عیسائی سبھی اپنے مذاہب کی پیروی پورے آزدانہ طو رپر کرتے ہیں جس میں حکومت طرف سے کوئی مداخلت نہیں کی جاتی۔یہاں مسلمان سب سے بڑی اقلیت ہیں بلکہ کہا جائے کہ بھارت میں رہنے والے 213 ملین مسلمان دنیا کے کسی بھی مسلم اکثریتی ملک سے زیادہ ہیں۔ بھارتی آئین ملک کے ہر شہری کو اپنے مذہب پر بلاروک ٹوک عمل کرنے کی آزادی دیتا ہے خواہ مسلم ہوں، سکھ ہوں، عیسائی ہوں یا دوسری اقلیتیں ہوں۔ انھیں اپنی پسند کے اداروں کے قیام کاحق حاصل ہے۔

آزادی کی حصولیابی سے آج جدید بھارت کی تعمیر تک مسلمانوںنے کسی دوسری کمیونٹی سے کم رول ادا نہیں کیا ۔ خواہ جدوجہد آزادی کے دوران علی برادران ہوں یا اشفاق اللہ خان یادیگر مسلم رہنما یاجدید بھارت میں میزائل مین اے پی جے عبدالکلام ہوں، بھارتی مسلمانوں نے ہمیشہ اپنے ملک کی عظمت کو قائم رکھاہے۔ ملک کی تعمیر میں ناقابل فراموش رول ادا کرنےوالے مسلمانوں کیخلاف افواہیں پھیلائی جاتی ہیں کہ تاکہ ملکی طبقات میں دشمنی پیدا ہو۔ ایسی افواہیں پھیلانے والوں کا مقصد صرف اور صرف اپنا ذاتی مفاد ہوتا ہے ، تاکہ ملک میں عدم استحکام پیدا ہو۔ جہاں تک کبھی کبھار تشدد کا معاملہ ہے تودنیا کا کوئی بھی ایسا ملک نہیں جہاں تکثیری سماج ہو اور شاذونادر ایسی واردات نہ ہوتی ہوں مگر موازنے میں وہ تمام ایسے ممالک جہاں تکثیری سماج ہے، بھارت میں اقلیتیں اور خصوصا مسلمان تمام سرکاری مراعات اور حقوق کافائدہ اٹھاتے ہیں اور انھیں ملک کے ہر شہری کی طرح یکساں طور پر مواقع حاصل ہیں۔

تکثیری سماج والے ممالک میں کبھی کبھار شاذونادر فرقہ وارانہ سانحات بھی رونما ہوتے ہیں۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں،مثلاً سری لنکائی سنتھالی تمل اقلیت کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں۔ پاکستان میں سنی شیعوں پر زیادتی کرتے ہیں۔ افغانستان میں پشتون اقلیتی طبقہ ہزارہ پرظلم کرتے ہیں، مگر بھارت میں ملکی آئین نے تمام اقلیتوں کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہوئے تمام حقوق مہیا کرائے ہیں۔ ملک میں قانون کے نفاذ میں کسی بھی طبقے کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جاسکتا۔ملک میں ہندو او رمسلم عموماً بھائی چارے کے ساتھ صدیوں سے پرامن طور پر رہتے آئے ہیں۔البتہ کچھ غیر سماجی عناصر ایسے ضرور ہیں جو وقفے وقفے سے ایسی مسموم فضا پیدا کرتے ہیں تاکہ طبقاتی کشمکش رونما ہو۔ وہ کچھ ایسا کرتے ہیں تاکہ مسلمانوں کے اندر عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو، مگر ایسے لوگ جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ابھی حالیہ دنوں کنیڈی سینٹر امریکہ میں اسٹینڈ اپ کامیڈن نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں اور مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے ، لیکن چونکہ یہ جھوٹ پر مبنی مفروضہ ہے اس لئے انھیں چوطرفہ تنقیدوں کا سامنا کرناپڑا۔بھارت میں مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے اس طرح کی افواہیں پھیلائی جاتی ہیں، مگر یہ بے بنیاد ہیں۔

 

عبداللہ

گلی قاسم جان، بلی ماران، دہلی ۔6

25-11-2021

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Close