Talk

تشدد پر اکسانے والا طبقہ 

مکرمی!
خوارجی اسلام میں ظاہر ہونے والا انتہائی منحرف فرقہ ہے، یہ وہ فرقہ ہے جس نے تیسرے خلیفہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے خلاف بغاوت کی اور انھیں شہید کردیا، بعد میں جب چوتھے خلیفہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بنے تو انھوں نے ان کےخلاف جنگ کی اور 38ہجری یعنی 658 عیسوی میں جنگ نہروان میں ان کی اکثریت کو قتل کیا۔جنگ نہروان سے پہلے اسلام کے عظیم عالم عبداللہ ابن عباس نے خارجیوں کےخلاف دلیل قائم کرنے کےلئے مدلل بحث کی تاکہ ان پراسلام سے منحرف ہونے کی شرعی تردید قائم ہوسکے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ (728 ھ) نے خارجی عقیدہ اور اس کے ظاہر ہونے کی بنیادی وجوہات کا بہت بصیرت سے بھرپور اور مفصل تجزیہ پیش کیا ہے۔خوارج بنیادی طور پر دولت اور اختیارات کے عہدوں سے متعلق دنیاوی خیالات اور شکایات سے محرک ہوتے ہیں جن سے انہیں روکا گیا ہو۔پھر وہ حکمرانوں کے گناہوں اور کوتاہیوں کو دیکھتے ہیں اور ان کی بنیادی شکایت ان گناہوں اور ظلم کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اس کے بعد وہ حکمراں کی تکفیر کرتے ہیں، حکمرانی کیلئے جھگڑتے ہیں اور تشدد کا راستہ اختیار کرتے ہیں،وہ سوچتے اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی خاطر لڑ رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں وہ دنیا کی طرف متوجہ ہو کر ایک دنیاوی مقصد کے حصول میں لگ جاتے ہیں۔سب سے پہلے خوارج کی یہی حقیقت سامنے آئی۔ حضرت شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے خوراج کی نفسیات کو یوں بیان کیاہے کہ خوارج کے فتنوں کے اسباب مشترک ہیں، بعض حالتیں دلوں کے اوپر سے گزرتی ہیں جو دلوں کو حق جاننے سے روکتی ہیں۔ وہ اسلام سے پہلے کی جاہلیت سے مشابہت رکھتے ہیں جس میں نہ تو علم تھا اور نہ ہی حق کی خواہش۔ان کی سوچ ہوتی ہے کہ اسلام نفع کی تکمیل کا ذریعہ ہے، مشکلات پر صبر کا مظاہرہ ان کے یہاں نہیں ہے۔حکمرانوں کے جن اعمال سے مفاد عامہ کو نقصان نہیں پہنچتا اور جن پر ظلم کا اطلاق نہیں ہوتا، وہ اسے ظلم قرار دیتے ہیں اور حکمرانوں سے جنگ وجدال کی ترغیب دینے لگتے ہیں۔
آپ صلی اللہ نے فرمایا ہے، کہ میرے بعد تمہارا سامنا کچھ ایسے لوگوں سے ہوگا جو حکمرانوں کیخلاف کھڑے ہوں گے،، تو صبر کرو یہاں تک مجھ سے آکر حوض پر ملو۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جو آسانی اور مشکل کے وقت ،خوشی کے وقت حکمرانوں کی سنے اور ان کی اطاعت کرے۔یعنی حکمرانوں سے اس وقت تک نہیں لڑنا ہے جب تک کہ وہ صریحاً اسلام کیخلاف احکامات نہ صادر کرنا شروع کردیں۔حاکم کی خود غرضی انسان کو اپنے حق کے حصول کےلئے اکساتی ہے اورہ حاکم سے نفرت کرنے لگتا ہے نہ کہ شریعت کی حکمتوں کے بارے میں، حکمرانوں سے متعلق نبوی ہدایات کیا ہیںاور حکمرانوں کے ساتھ کیا برتاو ¿ کرنا ہے وہ نہیں سوچتا۔ یہ شعور شرعی علم اور عمل صالح کے ساتھ ہی آتا ہے۔ اپنے لئے انصاف کا سوچنا، اپنا حق حاصل کرناتو ٹھیک ہے، لیکن حاکم سے پہلے ہی نفرت کرنا، جبکہ حاکم کے اور بھی بہت سے گناہ ہو سکتے ہیں، اور جب یہ شخص ان کے دوسرے گناہوں کو دیکھتا ہے تو اس کےلئے حاکم سے اور بھی نفرت پیدا ہو جاتی ہے اور اسے یہ یقین ہونے لگتا ہے کہ اس کے جو کام ہیں ان کی وجہ سے اس سے جنگ جائز ہے، جبکہ حقیقت میں، ہر چیز کے پیچھے سب سے بڑا بنیادی محرک دولت یا اقتداراور عہدے کی حصولیابی ہے جس سے حکمرانوں سے اختلاف کرکے انسان کو شرعی طور پر روکا گیا ہے۔
بڑی بدعنوانی تب پیدا ہوتی ہے جب حکمران یہ سمجھتا ہے کہ رعایا اس کےلئے خطرہ ہے، اورایسی صورت میں اس سے حکمران اور رعایا کے درمیان مزید جبر کے حالات پیدا ہوتے ہےں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات اور واقعات اور بھی خراب ہو سکتے ہیں جس سے سماج کے بنیادی کام جیسے کہ نقل و حمل، سفر، تجارت وغیرہ بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔یہ سب اس لئے کہ ایک فرد یا افراد کا گروہ صبر کا مظاہرہ کرنے کے قابل نہیں رہ پاتا جیسا کہ اسے شریعت میں حکم دیا گیا ہے، اس لئے انصاف کی آواز کے ساتھ صبر بھی ہونا چاہئے۔
محمد ہاشم
چوڑیوالان، جامع مسجد، دہلی- 6
21-11-2021
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close