TalkUncategorized

طالبان لوگوں کے حقوق پر عمل نہیں کرتے! عبداللہ دہلی۔6

مکرمی!
افغانستان سے مکمل طور پر امریکی انخلاء کے بعد ملک پر اب طالبان کا مکمل کنٹرول ہوچکا ہے۔ ان کے موجودہ اور سابقہ عمل میں کچھ حد تک فرق تو دکھائی دیتا ہے مگر آج بھی جو خبریں موصول ہورہی ہیں اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ طالبان کی موجودہ تصویر بھی عوامی حقوق کو پامال کررہی ہے۔ ان کا عمل آج بھی اسلامی اصولوں کیخلاف ہے۔ وہ عام شہریوں، خواتین، بچوں اور جنگ سے دور رہنے والے بزرگوں تک کو نہیں چھوڑرہے ہیں۔ ایک طرف طالبان کا دعویٰ ہے کہ وہ اسلام کیلئے جہاد کرنیوالے مجاہد ہیں مگردوسری طرف ان کا عمل اسلام کے بنیادی اصولوں کیخلاف ہے، جن کا تقاضا ہے کہ ناحق قتل نہ کیا جائے، خود کو بم سے نہ اڑایا جائے اورامن معاہدات نہ توڑے جائیں۔ طالبان اور ان کے جنگجو ہردوسرے دن اسلامی اصولوں کو توڑتے ہیں۔شریعت کہتی ہے کہ امن معاہدات کے عہدو پیمان کو نبھایا جائے لیکن طالبان ایسا نہیں کررہے ہیں جسے شریعت نہیں کہاجاسکتا جیسا کہ طالبان دعوی کرتے ہیں۔
شریعت اسلامیہ کے بنیادی اصولوں میں سے ہے کہ امن معاہدات کی پاسداری کی جائے اور لوگوں کی جان ومال کا تحفظ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں کہ اگر ان کا جھکاؤ اورمیلان امن وامان کی طرف ہو تو تم بھی جھک جاؤ اور اللہ تعالی پر بھروسہ رکھو، بے شک وہ ساری چیزوں کو سننے اور جاننے والا ہے(القرآن۔ 8:61)۔ مذکورہ آیت کے مطابق انسانی سماج میں امن اور امان اور پرسکون زندگی کی بڑی اہمیت ہے، لیکن دیکھا جارہا ہے کہ طالبان امن معاہدات کی طرف جھکنے کے بجائے اپنی مرضی پر عمل کرتے ہیں۔ افغانستان کی سابقہ حکومت نے امن معاہدہ کی طرف دعوت دی تھی لیکن طالبان کی طرف سے اس پر عمل نہیں کیا گیا اورطاقت کے زعم میں وہ پورے افغانستان پر جھنڈے گاڑنے کی سمت میں چل پڑے۔طالبان خواتین، بچوں اور عام لوگوں کے حقوق کا احترام نہیں کرتے، جبکہ اسلام میں ہے کہ رعایا کے حقوق ادا کئے جائیں، بجائے اس کے کہ ان پر جبر کا طریقہ اختیار کیا جائے۔
اللہ تعالی نے نہ حکمراں، نہ کسی فرد اور نہ کسی انتظامی محکمہ کو اس کی اجازت دی ہے کہ عوام کے حقوق سلب کرلئے جائیں۔ گزرتے ایام کے ساتھ یہ واضح ہوجاتا جارہا ہے کہ طالبان اسلام کی نمائندگی نہیں کر رہے ہیں بلکہ وہ طاقت کے زعم میں ہیں جو اقتدار کے حصول کیلئے تمام حربے استعمال کرنے کو جائز سمجھتے ہیں۔سعودی عرب کے ایک مفتی شیخ احمد النجمی نے ایک موقع پر طالبان اور اسامہ بن لادن کے سوال پر ایک حدیث شریف کے حوالے سے کہا تھا کہ اللہ تعالی کی لعنت ہے ان لوگوں پر جو اختراع کرنے والوں کی مدد کرتے ہیں۔اور اختراع کرنیوالے وہ ہیں جو دین اسلام میں نئی چیزوں کو پیدا کرتے ہوئے افغانستان میں دہشت گردی اور خونریزی کا دفاع کرتے ہیں۔ایسے میں تمام اسلامی رہنماؤں کا فریضہ ہے کہ وہ طالبان کے ایسے عمل کیخلاف میدان میں آئیں اور ا ن کے غیر اسلامی عمل کی مذمت کریں، کیونکہ اس طرح اسلام کی شبیہ خراب ہوتی ہے،نہ صرف اسلام بلکہ مسلمانوں کو گمراہ کیا جاتاہے۔

عبداللہ
گلی قاسم جان، بلی ماران، دہلی۔6

10-9-2021

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close