Talk

موہن بھاگوت کے بیان کا خیر مقدم کیا جاناچاہئے

مکرمی!
آر ایس ایس( سنگھ پریوار) کے سربراہ موہن بھاگوت کابیان ان دنوں میڈیا کی زینت بناہواہے۔ انھوں نے مسلمانوں کیلئے حوصلہ افزاءبیان دیتے ہوئے کہا تھاکہ بھارتی مسلمانوں کو’ڈر کے سائے‘ میں نہیں رہنا چاہئے کہ یہاں اسلام خطرے میں ہے‘۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ سبھی بھارتیوں کا ڈی این اے ایک سمان ہے۔ سنگھ چیف نے مزید اعادہ کیا کہ ہندوستان ایک ’نظریہ‘ کا نام ہے جو ہجوم کے ذریعہ مارنے یا قتل کی اجازت نہیں دیتا۔جو بھیڑ کاحصہ بن کر لوگوں کاقتل کرتے ہیں، وہ ہندوستان کےخلاف کام کررہے ہیں۔ ان کامذکورہ موقف حالیہ 4جولائی کو مسلم راشٹریہ منچ کے زیر اہتمام غازی آباد میں منعقدہ ایک پروگرام میں آیاہے۔ اسی طرح 31 جولائی کو گوہاٹی میں ایک کتاب کی اجرائی تقریب میں بھاگوت نے کہا تھا کہ ’ صدیوں سے مختلف مذاہب اور مختلف ’کھان پان‘ کے باوجود بھارتی لوگ اکٹھے رہتے آئے ہیں‘۔ اس تبصرے کو اس سیاست کے تناظر میں دیکھنا چاہئے جو گذشتہ کچھ برسوں سے دیش میں پنپ رہی ہے اور ایسے میں ان کاموقف بھارتیہ سماج کی منفرد اور تکثیری قبولیت کو ظاہر کرتاہے۔ 
ہندوستانی سیاست کی یہ خصو صیت رہی ہے کہ وہ مختلف سماجی اکائیوں کے جڑاؤ کو قبولیت بخشتا ہے۔یوں لگتا ہے کہ آر ایس ایس وچارک نے بھارت کی علاقائی اور غیر ملکی ترقی کیلئے اس کے اندرونی جڑاؤ کی اہمیت کا اعتراف کیا ہے۔گذشتہ کچھ برسوں میں بڑھتی فرقہ واریت اور اشتعال انگیزی کے سبب اقلیتوں کےخلاف تشدد کے سانحات، اسلامو فوبیا اور سماجی عدم تحفظ کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ گﺅ ونش پر ظاہر کئے جانےوالے حد سے زیادہ تجسس کے جذبے کے نام پر بھیڑ کے ذریعہ اقلیتوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے سانحات اور مسلمانوں کو ہندو اکثریتی طبقے کیلئے خطرہ پیدا کرنےوالی شبیہ نے اقلیتوں کی زندگی دوبھر کردی ہے۔ ایسے حالات میں باہمی یکجہتی اور ربط وضبط کی سخت ضرورت ہے، کیونکہ ملکی ترقی اور فلاح کیلئے یہ انتہائی ضروری ہے۔بھاگوت نے ہندوؤں اور مسلمانوں سے تشدد پر اتارو ہونے کے بجائے باہمی تبادلہ خیال کی اپیل کی۔ سنگھ پریوار رہنما نے زور دیا کہ ’ قومی یکجہتی اور اتحاد‘ کے بغیردیش کی ترقی ممکن نہیں۔اس ایکتا کی بنیاد ’ راشٹریہ واد‘ اور ہمارے آباؤ واجدادکی وراثت اور وقارہوناچاہئے۔
سنگھ چیف موہن بھاگوت کے مطابق ہم لوگ ایک جمہوری نظام میں رہتے ہیں جہاں کسی ایک طبقے کی ہرگزنہیں بلکہ صرف اورصرف بھارتیوں کی غالبیت ہوسکتی ہے۔بھاگوت کا مذکورہ تبصرہ بھارتی آئین، مساوات اورعدم تشدد کے بنیادی اصولوں کو مضبوطی فراہم کرتا ہے۔ ضروری ہے کہ پر امن بقائے باہم اور ملک کی تہذیبی تکثیریت کو جاناجائے۔ موہن بھاگوت کا یہ تبصرہ موجودہ’ کٹرواد‘ کے دوران خیرمقدمی قدم ہے جو اقلیتوں کی آزادی اور آئین میں حاصل سماجی تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔ بھارتی مسلمان بھی سمجھتے ہیں کہ سماجی انتشار ان کی ترقی میں مثبت اثر نہیں ڈال سکتے۔ اس بات کو ان کے ہندو بھائیوں کو بھی سوچنا ہوگاکہ غصہ اور تشدد کا بار بار استعمال غلط ہے۔ اقلیتوں خاص طو رپر مسلمانوں کو تسلی دینے کا یہ عمل خوف ختم کرے اور باہمی اتحاد کی راہیں ہموار کرے گا۔بہرحال نفرت پھیلانےوالے کچھ شرپسند عناصر کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ایسے میں آر ایس ایس چیف کے تبصرے کی بہت اہمیت ہے، ہندوستانی سما ج کو اس کا خیر مقدم کرنا چاہئے اوراتحاد قائم کرکے بھارت کو پوری دنیا کیلئے ایک مثال بنانا چاہئے۔
عبداللہ
گلی قاسم جان، بلی ماران، دہلی ۔6
17/8/2021
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close