Talk

نئے لکش دیپ کی مخالفت صحیح یا غلط!ایک تجزیہ

مکرمی!

لکش دیپ ڈیولپمنٹ اتھارٹی ریگولیشن 2021 (ایل ڈی اے آر) کی مخالفت صحیح ہے یا غلط اس پس منظر میں بحث ان دنوں جاری ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نئے لکش دیپ کا خاکہ ایک ایسا مجوزہ قانون ہے، جس کے ذریعہ لکش دیپ کے مختلف قصبات ترقی کی منزلیں طے کرسکیں گے، اس سے لکش دیپ کو مالدیپ کے مساوی سیاحتی مقام بنایا جاسکے گا۔ کچھ لوگ سرکار کے اس قدم کی مخالفت کرنے میں لگے ہوئے ہیں جس سے سرکار کے ساتھ ساتھ لکش دیپ کے ایڈمنسٹریٹر پرفل پٹیل پر حملوں کی بارش ہورہی ہے جبکہ سچائی یہ ہے کہ اس نئے مسودے کا جائزہ لیا جانا چاہئے تاکہ دیکھا جاسکے کہ اس سے مقامی لوگوں کا فائدہ ہوگا یا نقصان۔

موٹے طو رپر مخالفت 6نکات پر ہورہی ہے۔ یکے بعد دیگرے جو اختلاف ہے وہ یہ ہے کہ گائے کے ذبیحہ پر پابندی عائد ہوگی، مقامی لوگ جزیرے کیلئے بنائے گئے ترقیاتی منصوبے کے نفاذ کے بعد اپنی زمینوں سے ہاتھ دھوبیٹھیں گے، تیسرے غنڈہ قانون اس لئے لایا گیا ہے تاکہ پر امن باشندوںکو خوفزدہ کیاجاسکے، چوتھے یہاں جزیرے پر شراب کی دکانیں کھل جائیں گی ،پانچویں اس قانون کے تحت دوسے زائد بچوں والے پنچائتی راج میں نااہل ہونگے اور چھٹے یہ کہ مچھواروں کے تعمیر کردہ مکانوں کو توڑدیاگیاجو ان کا روزگار ہے، لیکن ادھر مذہب اسلا م میں دیگر مذاہب کے احترام کی دعوت دی گئی ہے ۔ قرآن کریم میں صاف طو رپر حکم دیا گیا ہے کہ ” ان لوگوں کو مت دھتکارو جو اللہ کے علاوہ دوسروں کی پوجا کرتے ہیں“۔( سورہ 6 آیت 109)۔ اس سے صاف ہوجاتا ہے کہ اصلی مسلمان کبھی دوسرے مذہب کے احترام میں کمی نہیں کرے گابلکہ اگر مسلمانوں کے کسی عمل سے دوسرے مذاہب کے عقیدتمندوں کو تکلیف ہوتی ہے تو ایسے میں اس عمل کو ترک کردینا چاہئے۔ ان سب کے باوجود مسلمانوں کے اپنے تہواربالخصوص عیدالاضحی پر قربانی کی چھوٹ دی گئی ہے، ایسے میں اس قانون کو مسلم مخالف کہنا عقلمندی تو نہیں ہوگی۔

کہتے ہیں تبدیلی کی مخالفت فطری ہے، بہرحال لکش دیپ کی وسیع پیمانے پر ترقی کو یقینی بنانے کیلئے وہاں کی زمین کو ایکوائر کرنا ضروری ہے۔ اس ایکوائر کو ایل ڈی اے آر 2021 کے مسودے کی دفعہ 7 ( 3 ) میں تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے،کیونکہ واضح طو رپر ایکوائر کمیٹیوں میں مقامی لوگوں کے نمائندے ہی شامل ہوں گے۔اور اگر اس جزیرے پر ترقیاتی کام شروع ہوتے ہیں تواس کا فائدہ براہ راست مقامی باشندوں کو ملے گا۔اگر یہ سیاحتی مرکز بنے گا تو لکش دیپ اقتصادی طو رپر مستحکم ہوگا اور خود کفیل بنے گا۔جہاں تک غنڈہ ایکٹ کا معاملہ ہے تو ابھی حالیہ 27 مئی کو کورکتی کے ضلع کلکٹر عسکر علی نے کوچی میں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ لکش دیپ میں نشیلی ادویات کے استعمال کی وجہ سے گھریلو تشدد اورمختلف قسم کے جرائم میں اضافہ ہوا ہے ، اسلئے سخت قانون کی ضرورت ہے، مگرکئی لوگوں کا ماننا بھی ہے کہ یہاں جرائم کم ہیں، لیکن یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ ترقیہوگی تو جرائم بھی بڑھ سکتے ہیں اس لئے پیشگی احتیاط ضروری ہے، بہرحال سرکار قانون سازی کررہی ہے لیکن ساتھ ہی ضروری ہے کہ اس سے قبل جزیرے کے لوگوں کو اعتماد میں لیا جائے اور ان کے اندر جو خوف بیٹھاہے اس کو نکالا جائے۔

عبداللہ

گلی قاسم جان، بلی ماران، دہلی ۔6

24-7-2021

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close