Talk

دعوت اور جبریہ تبدیلی مذہب دو الگ چیزیں

 

مکرمی!

دعوت دین یعنی ’ الدعوة‘ اسی وقت تک صحیح معنوں میں لیاجانا چاہئے جب تک اس میں جبریہ تبدیلی مذہب کا معاملہ شامل نہ ہو۔ اگر دعوت دین کے نام سے کوئی جبر ، لالچ، دھوکہ اور دوسروں کے حقوق پر غاصبانہ قبضہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس وقت لفظ ’ الدعوة‘ غلط معنوں میں لیا جائے گا جس میں اسلام کے پیروکاروں کے ذریعہ ایسی سرگرمیاں مراد لی جاتی ہیں جو نہ صرف مذہب اسلام بلکہ تمام سماجوں پر اسلام کو جبریہ نافذ کرنے کی مہم چلاتے ہیں۔اسی لئے نینا وڈل اپنی کتاب ’ دعوة اینڈ دی اسلامسٹ ریوایﺅل ان دی ویسٹ‘ میں لکھتی ہیں کہ اسلام پسندی کے نظریہ میں ’دعوت‘ سے مراد اسلامی پیروکار بنانے کیلئے ایسی سرگرمیاںہیں جو تمام سماجوں میں دین اسلا م کو جائز وناجائز طورپرنافذ کردیں۔ آئین کی دفعہ 25 (1 ) کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے تمام شہری یکساں طو رپر ضمیر کی آزادی اور آزادانہ مذہب کی تبلیغ اورعبادت کرنے کا بنیادی حق رکھتے ہیں، لیکن جب جبریہ تبلیغ ہوتو دعوت اور مذہب میں فرق کرنا پڑے گا۔

دعوت کے منصفانہ طریقہ کو چھوڑنے کی وجہ سے بعض افراد اس لفظ کو غلط سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کا مقصد غیر مسلموں کو سیاسی اسلام میں تبدیل کرنا اور موجودہ مسلمانوں میں زیادہ سے زیادہ اسلامی نظریات لانا ہے۔ ایان حرسی علی نے اپنی کتاب”دی چیلنج آف دعوة‘ میں لکھتے ہیں کہ دعوة کا حتمی مقصد ایک آزاد معاشرے کے سیاسی اداروں کو ختم کرنا اور ان کی جگہ سخت شریعت کو لادنا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اسلام پسند اپنے مقاصد کے حصول کےلئے پرامن اور تشدد پسندانہ دونوں طریقوں کو اپناتے ہیں۔ جب ایسی باتیں سامنے آتی ہیں تو بعض لوگ کہنا شروع کردیتے ہیں کہ ہندوستان جیسے متعدد کثیرالمذاہب سماج میں اس پر پابندی عائد ہونی چاہئے۔دعوت کو غلط سمجھنے کی وجہ سے کچھ لوگ یہ بھی کہنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ یہ ایک مشنری ہے جس میں قانونی تحفظ حاصل کرکے دعوت وتبلیغ میں مشغول لوگ سرکاری ایجنسیوں کو دھوکہ دیدیتے ہوئے ظاہر کرتے ہیں کہ وہ’ اعتدال پسند‘ مسلمان ہیں، جبکہ ایسا ہوتا نہیں۔

دعوت کے اصلاحی کام کو دوسرے انداز میں دیکھنے وجہ سے یہا ں تک مان لیاجاتاہے کہ تبلیغ کنندگان تشدد اور غیر متشدد ہر طرح سے کام کرتے ہیں تاکہ تمام سماجوں پر سخت شرعی قانون نافذ کردیں، لیکن یہ اسلا م کا طریقہ نہ رہا ہے اور نہ ہی پیغمبرحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی ہے۔دعوت ایک صاف ستھرا عمل ہے جو کسی بھی معاشرے میں بے چینی پیدا نہیں کرتا، لیکن بعض کی وجہ سے یہ غلط سمجھا جارہا ہے۔چند لوگو ںکے غلط کاموں کی وجہ سے الزامات مسلمانوں کے مختلف معاشروں پر لگتے ہیں جیسے کہ ہریانہ کے علاقہ میوات کے مسلمانوںکو تبلیغی جماعت کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ وہاں اسلامی سرگرمیاں مجرمانہ زمرے میں داخل ہیں۔اعتدال پسندی یہ ہرگز نہیں ہے کہ ایک طرف جبر ہو اور دوسری طرف امن ہو۔ جبریہ طریقہ نے لوگوں کو سمجھادیا ہے کہ دعوت کی سرگرمیاں خلافت کےلئے انجام دی جاتی ہیں، جبکہ اسلام کا مطلب امن ہے اور موجودہ گلوبل ولیج میں امن پسند سماج یا ملک ہی ترقی پاسکتا ہے۔

 

محمد ہاشم

چوڑیوالان، جامع مسجد، دہلی- 6

17-7-2021

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close