Talk

کوروناوباء کے دوران رمضان المبارک کی نیکیوں کا حصول

مکرمی!
رمضان المبارک دنیا کے تمام مسلمانوں کیلئے ایک عظیم تحفہ ہے،کیونکہ یہنیک کام انجام دینے اور اپنی غلطیوں پر توبہ کرنے کا موقع فراہم کرتاہے۔ اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتے ہیں ”اے ایمان والو!تم پر روزہ فرض ہے جس طرح تم سے پہلے کی امتوں پرفرض ہوا تھا تاکہ تم نیک ہوجاؤ“ (قرآن 2:183)، یہی وجہ ہے کہ تمام مومنین اس فراخدلی سے اس ماہ مبارک کا انتظار کرتے ہیں جو انسان کی امید سے زیادہ عطاکرتاہے۔درحقیقت مسلمان کچھ اہم اعمال اس ماہ میں انجام دیتے ہیں، جیسے روزہ رکھنا(کھانے، پینے، جھوٹ بولنے، دوسروں کو دھوکہ دینے وغیرہ سے) طلوع فجر سے دن غروب ہونے تک، وقت پر نماز ادا کرنااورضرورتمندوں کو خیرات دیناتاکہ بے شمار برکتوں اور فضیلتوں کو حاصل کرسکیں۔
ہندوستان کے ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے کورونا وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ہمیں حکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے۔ ان خاص حالات میں ہمیں بڑے پیمانے اجتماعی افطار،دینی اجتماعات اور اجتماعی تراویج پڑھنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔سال 2021 کارمضان گذشتہ رمضان سے بالکل مختلف ہے(سوائے 2020) کے کیونکہ فی الحال ہم ہی نہیں پوری دنیا کورونا وائرس سے دوچار ہے۔ چونکہ روزہ ایک ا نفرادی عبادت ہے، اس لئے کورونا کے دوران رمضان کے تمام فرائض اور سنن کا اہتمام گھرکے اندر ہی کرنا چاہئے، مثلاً گھر میں نماز پڑھنا، قرآن کریم کی تلاوت کرنا، اپنے گھروالوں کے ساتھ افطاری کا اہتمام، اچھے پکوان، چپکے سے خیرات دینا، دینی کہانیاں پڑھنا وغیرہ تاکہ آپ خود کو اور اپنے عزیز واقارب کوکورونا وائرس جیسے مہلک مرض سے محفوظ رکھ سکیں۔ رمضان المبارک وبائی مرض کے دوران مسلمانوں کیلئے ایک اضافی نعمت ہے کیونکہ اس ماہ مبارک میں مسلمانوں کو صفائی اور حفظان صحت کامزید خیال رکھنا چاہئے، مثلاً روزانہ نہانا، نمازوں کے دوران ہاتھ اور چہرہ دھوتے ہوئے مکمل طو رپروضو کرنا کہ ہاتھ پیرپوری طرح صاف ہوجائیں، یقینی طور پر اس سے کوروناوائرس کو روکنے میں بڑی مدد ملے گی۔
اللہ کے رصول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق اللہ تعالیٰ نے فرمایا”آدم علیہ السلام کے بیٹوں کیلئے تمام اعمال ہیں سوائے اس کے کہ روزہ میرے لئے ہے اور اس کا بدلہ میں ہی دوں گا“۔روزہ کے دوران یوں بھی بلاوجہ گھومنا پھرنا، ٹھیک نہیں، نیک لوگ نیک اعمال کیلئے گھروں میں رہیں اور وہیں عبادت کریں، یقینا اللہ تعالیٰ آپ کو کوروناکے عدم پھیلاؤ میں تعاونکیلئے نیکیاں دیں گے، کیونکہ یہ ایک سماجی کام ہے اور اسلام میں سماجی کاموں کی بڑی اہمیت ہے۔اسلامی تعلیم کی روشنی میں یہ ہرگز جائز نہیں کہ خود کی اور لوگو ں کی جان خطرے میں ڈال کر تراویح کی نماز باجماعت ہو اور پنجوقتہ نمازوں کا اجتماعی طو رپر اہتمام ہو۔ ہمیں اپیلیں کرنا چاہئے کہ اپنے تمام نیک اعمال کووڈ کی تمام ہدایات پر عمل کرتے ہوئے کریں۔ خود کو،اپنے اقارب کو اور تمام ملک والوں کوموجودہ طاعون سے بچائیں، اللہ تعالی ایسی صورت میں آپ کی نمازیں اور نیکیاں ضائع نہیں کرے گا۔ ایسے میں مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ کووڈ کے دوران خود بھی بچیں اور لوگوں کو بھی کورونا وائرس سے بچائیں تاکہ پوری دنیا کیلئے ایک عظیم مثال قائم ہو۔
عبداللہ
گلی قاسم جان، بلی ماران، دہلی- 6

27-04-2021

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close