Talk

کیا حقیقی شناختی ثبوت والے مسلمانوں کو CAA اور NRC کے بارے میں فکرمند ہونا چاہئے

مکری! شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) 2019، جس کو بھارتی پارلیمنٹ نے پاس کیاہے، وہ طویل مدت سے متنازعہ بنا ہوا ہے اور ہندوستانی مسلمان اس قانون کیخلاف اس لئے کھڑے ہیں کیونکہ وہ اس قانون کو سمجھتے ہیں کہ انھیں ملک سے نکال باہر کرے گا۔ شہریت (ترمیمی) ایکٹ (سی اے اے)، 2019 کیخلاف احتجاج، ملک کے گوشے میں گوشے میں پھیل گیاتھا، کچھ نے اس لئے احتجاج میں حصہ لیا کیونکہ انھوں نے سی اے اے کو مبینہ طور پر ملک کی سیکولر شناخت کے منافی مانا، جبکہ دوسرے کچھ احتجاجیوں کو خدشہ تھا کہ اس قانون سے ان کی لسانی اور ثقافتی پہچان خطرے میں پڑ جائیگی۔ سی اے اے کے بارے میں نظریات، ایشوز اور مباحثے بڑے پیمانے پردیش میں پھیل چکے ہیں، لیکن یہاں میں یہ سوال پیش کرنا چاہتاہوں کہکیا حقیقی شناختی ثبوت رکھنے والے مسلمانوں کو سی اے اے یا این آر سی پرفکر مند ہونا چاہئے۔
سی اے اے اور این آر سی (شہریوں کا قومی رجسٹر) باہمدگرمنسلک ہیں، اور این آر سی، سی اے اے کو اپنی دفعات اور التزامات کو نافذ کرنے اور حکومت کی منشاء کے مطابق غیر قانونی تارکین وطن سے خالی کرانے کی بنیاد فراہم کریگا۔ این آر سی دراصل گھر گھراعدادوشمارکی ایک مشفق ہے جس میں شہریوں کی حیثیت، مقامی علاقہ میں رہائش پذیر ہر خاندان اورہر فرد سے متعلق تفصیلات اکٹھا کی جانی ہے۔ اس لئے جس طرح کے مختلف دعوے کئے جارہے ہیں اس کے برعکس، لوگوں سے اپنے دادا دادی سے متعلق دستاویزات پیش کرنے کو نہیں کہا جائے گا، بلکہ لوگ اپنے شناختی کارڈ یا کوئی اور کاغذ جس کو ووٹر لسٹ میں اپنے اندراج کیلئے یاآدھار کارڈ حاصل کرنے کیلئے پیش کرتے ہیں،این آر سی کیلئے بھی اسی طرح کی دستاویزات کی فراہمی ضروری ہے، جس میں تاریخ پیدائش سے متعلق کوئی بھی دستاویز شہریت کے ثبوت کے طور پر کافی ہوگی۔ تاہم کیا دستاویزات قابل قبول ہوں گی اس بارے میں فیصلہ ابھی تک زیر التوا ہے۔ان میں ووٹر شناختی کارڈ، پاسپورٹ، آدھار کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، انشورنس پیپر، برتھ سرٹیفکیٹ، اسکول چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ، زمین یا گھر سے متعلق دستاویز یا حکومت کی جاری کردہ کوئی سرٹیفکیٹ شامل ہونے کا امکان ہے۔ اگر کوئی شخص ناخواندہ ہے اور مطلوبہ دستاویزات نہیں ہیں تو حکام اسے گواہ لانے کی اجازت دیں گے۔ مزید شواہد اور کمیونٹی کی تصدیق کی بھی چلے گی، تاکہ وہ اپنی شہریت کا حق ثابت کرسکے۔
سچائی یہ ہے کہ این آر سی صرف ان ہی مسلمانوں کو خارج کرے گا جن کے پاس دستاویزات نہیں ہیں اور وہ واقعی تارکین وطن لوگوں میں سے ہیں۔لیکن وہ مسلمان جن کے پاس دستاویزات ہیں، انہیں CAA یا NRC کے متعلق فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ محض خدشہ اور بلاوجہ کا ڈر ہے جس کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ انھیں ملک سے باہر یا حراستی کیمپوں میں نہیں پھینکا جاسکتا، ملک کے کچھ اصلی باشندے مسلمان جن کے پاس دستاویزات نہیں ہیں اور وہ اپنی آبائی جگہ سے ہجرت کرکے ملک کے کسی دوسرے حصے میں جابسے ہیں جہاں کمیونٹی کے شواہد اکٹھے نہیں کیے جاسکتے، انہیں بھی اپنا موقف ثابت کرنے کیلئے کافی کچھ مواقع فراہم کئے جائینگے۔ ایک عام ملک میں حکومت جانتی ہے کہ کون اس کا شہری ہے اور کون نہیں اور جب اسے شک ہوتا ہے تو وہ ایک فرد پر مطلوبہ جانچ پڑتال کرتی ہے اور اس طرح بھارتی ٹیسٹ میں پورا ملک شامل ہوتا ہے۔
محمد ہاشم
چوڑیوالان، جامع مسجد، دہلی – 6

(22-4-2021)

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close