UAE

متحدہ عرب امارات کا49 واں قومی دن منایاجارہا ہے

متحدہ عرب امارات 2 دسمبر کو اپنا 49 واں قومی دن منایاجارہا ہے۔ کوویڈ 19 وباء کے باعث درپیش عالمی چیلنجوں کے باوجود متحدہ عرب امارات نے اس سال متعدد کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ خلاء اور توانائی جیسے اہم اسٹریٹجک شعبوں میں ملک کی کامیابیاں قابل ذکر ہیں۔ مریخ مشن کا آغاز اور چاند پر تحقیق کے لئے پہلے عرب منصوبے کے اعلان نے عالمی توجہ حاصل کی۔ متحدہ عرب امارات نے ماحول دوست بجلی پیدا کرنے والے براکہ نیوکلیئر انرجی پلانٹ کے پہلے جوہری ری ایکٹر کے کامیاب آپریشن کے ساتھ جوہری توانائی کے کلب میں باضابطہ طور پر شمولیت اختیارکی۔ نئی قدرتی گیس اور تیل کے شعبوں کی دریافت توانائی کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اپنے فلاحی اور امدادی کاموں کا دائرہ بڑھاتے ہوئے تقریبا 120 ممالک کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کرکے دنیا بھر میں کوویڈ 19 کے خلاف عالمی کوششوں میں حصہ لیا۔ اس وباء سے نمٹنے میں اس کا مقامی سطح پر کارکردگی دنیا میں سب سے زیادہ کامیاب ہے اور یہ انفیکشن کی کم شرح اور ملک کی مجموعی آبادی سے کہیں زیادہ ٹیسٹوں کی تعداد سے ثابت ہے۔ متحدہ عرب امارات خطے میں رواداری کو فروغ دینے اور استحکام اور بقائے باہمی کے قیام کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین تاریخی امن معاہدہ اسکی واضح مثال ہے۔ اگلے پچاس سالوں کی تیاریوں کے سال کے طور پر 2020 میں متحدہ عرب امارات نے عالمی مسابقت کے معاملے میں دس سرفہرست ممالک میں اپنا مقام بنا لیا ہے اور ایسے نئے قوانین بنائے جو خواتین کی کامیابیوں کے ساتھ معاشی اور معاشرتی استحکام کو بھی تقویت بخشتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے 58.113 ارب درہم کے وفاقی بجٹ 2020 کی منظور دی جبکہ ملک کے بینکنگ سسٹم کے اثاثوں کی مالیت 2020 کی تیسری سہ ماہی میں 3.252 ٹریلین درہم رہی جو 2019 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 5.4 فیصد زیادہ ہے۔ رواں سال خلاء میں تاریخی کارنامے انجام دے کر خلائی تحقیق کے شعبے میں متحدہ عرب امارات نے سرکردہ ممالک کے گروپ کے درمیان اپنی پوزیشن مستحکم کی اور یہ ثابت کیا کہ اس کی قیادت اور لوگوں کے عزائم کی کوئی حد نہیں ہے۔ 20 جولائی 2020 کو مریخ کی کھوج کے لئے تحقیقاتی مشن "امید ” کا آغاز اس سال خلائی شعبے میں اہم اماراتی کامیابی تھی جس سے نے متحدہ عرب امارات کو سات ممالک کے اس گروپ میں شامل کردیا جو سرخ سیارے کا مطالعہ کررہے ہیں۔ دنیا 9 فروری 2021 کو 19:42 پر اماراتی تحقیقاتی مشن کے مریخ پر پہنچنے کی منتظر ہے۔ ستمبر 2020 میں متحدہ عرب امارات کا پہلا ماحولیاتی مصنوعی سیارہ MeznSat خلاء میں روانہ کیا گیا۔ متحدہ عرب امارت گزشتہ 20 سالوں میں 11 سیٹلائٹ خلاء میں بھیج چکا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے چاند کی کھوج کے لئے ایک جامع منصوبے کا بھی اعلان کیا جس میں ایک سو فیصد مقامی طور پر تیار کردہ قمری آربٹرراشد شامل ہے۔ متحدہ عرب امارات امریکہ، سابقہ روس اور چین کے بعد سائنسی مقاصد کے لئے قمری دریافتوں میں حصہ لینے والا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا ہے۔ اکتوبر 2020 میں متحدہ عرب امارات نے ایک نیا مصنوعی سیارہ MBZ-Sat تیار کرنے کا اعلان کیا جو خلیفہ سیٹ کے بعد اماراتی انجینئروں کا تیار کردہ دوسرا مصنوعی سیارہ ہے۔ 2020 میں متحدہ عرب امارات نے اسوقت جوہری توانائی سے بجلی پیدا کرنا شروع کی جب امارات نیوکلیئر انرجی کارپوریشن، ای این ای سی نے اعلان کیا کہ براکہ پرامن پُر جوہری پلانٹ کی دیکھ بھال کی ذمہ دار کمپنی، نواہ انرجی کمپنی نے پلانٹ کے پہلے جوہری کے کامیاب کام کا آغاز کیا۔ یہ اعلان پلانٹ کے ری ایکٹر کو بجلی کے بنیادی قومی نیٹ ورک سے منسلک کرنے کے عمل کو مکمل کرنے کے بعد کیا گیا تھا۔ 18 نومبر 2020 کو جب پلانٹ کا پہلا ری ایکٹر اپنی توانائی کی پیداواری صلاحیت کے 80 فیصد تک پہنچا تومتحدہ عرب امارات ایک مصدقہ اور ماحولیاتی ماحول میں ایٹمی توانائی سے محفوظ طریقے سے بجلی پیدا کرنے والا عرب خطے کا پہلا اور دنیا کا 33 واں ملک بن گیا۔ یہ پلانٹ بجلی کی بچت اور کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لئے ملک کی کوششوں میں مددگار ثابت ہوگا۔ جب پلانٹ کے چاروں ری ایکٹر مکمل طور پر کام کرنا شروع کردیں گے تو وہ 5.6 گیگا واٹ توانائی پیدا کریں گے اور سالانہ 21 ملین ٹن کاربن کے اخراج کو کم کریں گے۔ متحدہ عرب امارات نے سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزان میں آئی ایم ڈی بزنس اسکول کی جاری کردہ 2020 کی عالمی مسابقت کی سالانہ رپورٹ میں مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے خطے کے ممالک کی قیادت کی ہے۔ متحدہ عرب امارات عالمی سطح پر اس حوالے سے دنیا میں نویں نمبر پر ہے۔ متحدہ عرب امارات 23 انڈیکس میں بھی دنیا میں پہلے نمبر پر اور 59 انڈیکس میں دنیا کے پہلے پانچ ممالک میں شامل ہے۔ اسی طرح رپورٹ میں کل 338 انڈیکس میں سے 106 انڈیکس میں دنیا کے پہلے 10 ممالک میں شامل ہے۔ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ہونے والا امن معاہدہ 2020 کا اہم سیاسی واقعہ ہے کیونکہ معاہدے کے ذریعے متحدہ عرب امارات کی سفارتی پیشرفت مشکل حالات کے باوجود خطے اور پوری دنیا کی خوشحالی کے حصول کا ایک موقع ہے۔ دنیا بھر کے مختلف سیاسی حلقوں کے مابین اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ یہ معاہدہ متحدہ عرب امارات کے امن و رواداری کے پیغام کی عکاسی کرتا ہے اور مستقبل کے بارے میں اپنے نظریات کے ادراک کا یہ خود مختار فیصلہ تنازعات اور دشمنی سے دوری ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ معاہدہ فلسطینی مقاصد کی تکمیل کرے گا، فلسطینی عوام کے حقوق کا تحفظ کرے گا اور اسرائیل کی فلسطینی اراضی پر قبضے کے عمل کو روک دے گا۔ کورونا وائرس سے نمٹنے کی عالمی کوششوں میں بھرپور کردار کے ذریعے متحدہ عرب امارات کی خارجہ پالیسی کا انسان دوست پہلو عالمی سطح پر اجاگر ہوا۔ متحدہ عرب امارات نے 120 ممالک کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی جس سے وائرس سے لڑنے والے لاکھوں فرنٹ لائن طبی کارکن مستفید ہوئے۔ متحدہ عرب امارات نے ابتدائی مرحلے سے لیکر بحالی کے مرحلے تک کورونا وائرس کے بحران سے نمٹنے کے لئے اپنا ایک ماڈل تشکیل دیا۔ متحدہ عرب امارات بحران کے اثرات پر قابو پانے اور چیلنجوں کو ترقی، مسابقت اور استحکام کے حصول کے مواقع میں بدلنے والا اولین ملک تھا۔ کورونا وائرس وبائی مرض پر قابو پانے کے لئے اماراتی ماڈل نے متحرک سرکاری انتظامیہ، استعداد، مالی قابلیت، درست فیصلوں اور مناسب احتیاطی تدابیر سے بھرپور استفادہ کیا۔ دوسرے فوائد میں اس کے صحت کی دیکھ بھال کے نظام کا معیار بھی شامل ہے جس نے طبی سامان اور انسانی وسائل کی کسی قسم کی رکاوٹ یا قلت کا سامنا کیے بغیر ہی بحران کا جواب دیا۔ خوراک اور ادویات کے اسٹریٹجک ذخائر میں اضافہ کرکے ملک ہنگامی حالات اور بحرانوں سے نمٹنے کے لئے بہتر طور پر تیار تھا۔ متحدہ عرب امارات کے ٹیلی مواصلات اور انٹرنیٹ نیٹ ورکس کے جدید انفراسٹرکچر کی وجہ سے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کو ورچول طور پر تعلیم جاری رکھنے میں مدد ملی اور بہت سے سرکاری اور نجی شعبے کے اداروں کو تیزی سے دور دراز کے نظام کو اپنانے کا موقع ملا۔ کورونا وائرس بحران سے نمٹنے میں متحدہ عرب امارات کی کامیابی کے متعدد اشاریے اسکے کارناموں کے ذریعے سامنے آئے۔معاشی بحالی، تعلیمی عمل کے تسلسل ، احتیاطی تدابیر کے نفاذ کے ساتھ ساتھ نظام صحت کی استعداد اور اسکے نتائج کے حوالے سے متحدہ عرب امارات عرب خطے میں پہلے نمبر پر رہا۔ جولائی 2020 میں متحدہ عرب امارات نے وفاقی کابینہ میں ردوبدل کی کیونکہ COVID-19 کے بعد کے دور کی تیاری کے لئے ایسی حکومت کی ضرورت ہوگی جو زیادہ فعال، لچکدار اور کسی بھی حالت کو اپنانے کے قابل ہو۔ اس ردوبدل کا مقصد حکومت کی تیاریوں کو بہتر بنانا، قومی ترجیحات کی از سر نو تصدیق کرنا، تیزی سے عالمی تبدیلیوں کو اپنانے کے لئے منصوبے اور حکمت عملی تیار کرنا اور ایک جامع فعال طرز عمل تیار کرنا ہے جو آنے والے دور کا اندازہ لگائے اور ساتھ ہی مستقبل میں چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے حل پیش کرے۔ کابینہ ردوبدل میں نئی وزارتوں کا قیام بھی شامل ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اپنے قانون سازی کے نظام کو آگے بڑھایا اور بہت سارے وفاقی احکامات اور قوانین جاری کیے جن کا مقصد معاشرے کی حفاظت و سلامتی کو بہتر بنانا، ملک کے شہریوں کے لئے معاشی اور معاشرتی استحکام کا حصول اور تمام سرکاری اداروں میں احتساب، شفافیت اور موثریت کی بنیادیں قائم کرنا ہے۔ 2020 میں وفاقی ذاتی حیثیت کے قانون، فیڈرل سول کوڈ، فیڈرل پینل کوڈ اور وفاقی تعزیراتی کے طریقہ کار کے قانون کی دفعات میں ترمیم کے لئے متعدد وفاقی فرمان جاری کئے گئے۔ ذاتی حیثیت کے قانون اور تعزیراتی ضابطہ میں ترمیم غیر امارتیوں کو وراثت کے لحاظ سے ان پر لاگو قوانین کا انتخاب کرنے کی اجازت دے گی۔ تعزیراتی ضابطہ اور تعزیراتی طریقہ کار میں ترمیم ذاتی آزادیوں کے تحفظات اور معاشرتی تحفظ کو بھی یقینی بنائے گی۔ مزدوروں کے امور کو منظم کرنے سے متعلق 1980 کے وفاقی قانون نمبر ۔8 کی کچھ دفعات میں ترامیم کی گئی ہیں جن کے مطابق خواتین کارکن بھی مرد مزدوروں کے برابر اجرت کی حق دار ہونگی اگر وہ ایک ہی قسم کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ اس قانون کے تحت نجی شعبے کے ملازمین کو پانچ کام کے دنوں کے لئے ایک پیٹرنٹی رخصت کی بھی منظوری دی گئی ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرسکیں جس سے متحدہ عرب امارات والدین میں سے دونوں کو چھٹی دینے والا پہلا عرب ملک بن گیا ہے۔ نومبر 2020 میں کمپنیوں سے متعلق قانون کی کچھ دفعات میں ترمیم کرکے غیر ملکی سرمایہ کاروں اور کاروباری مالکان کو ان کی قومیت سے قطع نظر اماراتی کفیل کی ضرورت کے بغیر مکمل طور پر ملک میں کمپنیوں کی اجازت دینے کے لئے ایک فرمان قانون جاری کیا گیا۔ معاشی محاذ پر متحدہ عرب امارات COVID-19 وباء کے اثرات پر قابو پانے میں کامیاب رہا اور دنیا کی اعلی معیشتوں اور سرمایہ کاری کی پرکشش منازل میں اپنی نمایاں پوزیشن برقرار رکھی۔ متحدہ عرب امارات معیشت کو فروغ دینے، تمام معاشی شعبوں کی حمایت اور عالمی بحران کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے میں کاروباروں کی مدد کرنے کے لئے معاشی مراعات دینے والے پہلے ممالک میں شامل تھا۔ متحدہ عرب امارات کے سنٹرل بینک کی طرف سے 100 ارب درہم کے جامع امدادی پیکج اور وفاقی اور مقامی حکومتوں کے مالی اعانت کے پیکجز کے ذریعے اماراتی معیشت کو فروغ دینے، کاروباروں کے تسلسل اور صارفین اور کمپنیوں کو تحفظ کو یقینی بنایا گیا۔ خلیج تعاون کونسل اور مشرق وسطی کے بہت سے معاشی شعبوں کی وجہ سے سست روی کے باوجود 2020 میں متحدہ عرب امارات کے بینکاری نظام نے اپنی نمایاں کارکردگی جاری رکھی۔ سال 2020 کی تیسری سہ ماہی میں بینکنگ سیکٹر کے مجموعی اثاثے 3.252 ٹریلین درہم تک پہنچ گئے جو 2019 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 5.4 فیصد زیادہ ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے یونین کے 2021 کے عام بجٹ کی بھی منظوری دی جس کے تخمینے کے مطابق مجموعی اخراجات 58.113 ارب ہیں۔ بجٹ کا مقصد معیار زندگی کو بلند کرنا اور ملک کے شہریوں اور رہائشیوں کو باوقار زندگی فراہم کرنا ہے۔ معاشی ترقی اور معاشرتی فوائد کے ساتھ ساتھ قومی تعلیم کے شعبے کو تقویت دینے، صحت کی دیکھ بھال کے معیار کو بہتر بنانے، عوامی رہائش کے پروگراموں کی معاونت اور معاشرے کے تمام ارکان کا معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے خصوصی گرانٹس مختص کی گئیں ۔ نومبر 2020 میں ، سپریم پٹرولیم کونسل (ایس پی سی) نے ساحل پر تیل کے غیرروایتی وسائل کی دریافت کا اعلان کیا جس کا تخمینہ 22 ارب اسٹاک ٹینک بیرل (ایس ٹی بی) ہے اور ابوظبی کی امارت میں 2 ارب ایس ٹی بی کے روایتی تیل ذخائر میں اضافہ ہوا۔ ابوظبی نیشنل آئل کمپنی، ادنوک کے ایکشن پلان کی منظوری دی گئی جس کا مقصد اگلے پانچ سالوں میں اپنی سرمایہ کاری کو 448 ارب درہم تک بڑھانا ہے۔ اس ایکشن پلان سے کمپنی کو سمارٹ نمو حاصل ہوسکے گی اور 160 ارب درہم (43.6 بلین ڈالر) 2021 سے2025 کے دوران مقامی معیشت میں ری ڈائریکٹ ہوسکیں گے۔ متحدہ عرب امارات کے کھیلوں کے شعبے نے کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے ہنگامی حالات کیلئے اپنی تیاری کو ثابت کیا اور احتیاطی تدابیر آپناتے ہوئے بتدریج اپنی سرگرمیاں بحال کیں۔ متحدہ عرب امارات نے فٹ بال اور دیگر کھیلوں میں لیگ کے مقامی مقابلوں کے دوبارہ آغاز کیا۔ رواں سال متحدہ عرب امارات نے ایم ایم اے فائٹنگ چیمپئن شپ کے چار راؤنڈزکی میزبانی کی اور ابوظبی میں یاس آئی لینڈ پر یو ایف سی ریٹرنز ٹو فائٹ آئی لینڈ ایونٹ کا انعقاد کیا جبکہ 13 دسمبر کو گراں پری فارمولہ 1 کی تیاری جاری ہے۔ 2020 میں متحدہ عرب امارات کی کھیلوں کی کامیابیوں کا سلسلہ جاری رہااور قومی سائیکلنگ ٹیم نے تاریخ میں پہلی بار ٹور ڈی فرانس میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ابو ظبی جیوجتسو گرینڈ سلیم جیوجتسو ورلڈ ٹور میں متحدہ عرب امارات کی جیوجتسو ٹیم 63 ممالک سے آگے رہی اور 86 تمغے حاصل کیے۔ مزید برآں متحدہ عرب امارات کی فنسنگ ٹیم نے بحرین میں منعقدہ عرب یوتھ فینسنگ چیمپئن شپ میں 18 تمغے جیتنے کے بعد پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ترجمہ: ریاض خان ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close