Delhi-NCR

زرعی اصلاحات کے قوانین سے کسانوں کے نئےامکانات کےدروازے کھولے: مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز زرعی اصلاحات کے قوانین کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان قوانین سے کسانوں کے لئے نئے امکانات کے دروازے کھلےہیں اپنی دوسری مدت کے 18 ویں ’من کی بات‘ پروگرام میں مسٹر مودی نے کہا کہ ان قوانین نے نہ صرف کسانوں کے بہت سے بندھن ختم ہوئے ہیں بلکہ انہیں حقوق اور مواقع بھی فراہم کئے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا’’ہندوستان میں زراعت اور اس سے وابستہ چیزوں میں نئی ​​جہتیں شامل کی جارہی ہیں۔ گزشتہ دنوں ہونے والے زرعی اصلاحات نے کسانوں کے لئے نئے امکانات کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا’’برسوں سے کسانوں کی مانگ تھی اور ان مطالبات کی تکمیل کے لئے ہر سیاسی پارٹی نے ان سے وعدہ کیا تھا وہ مانگیں اورمطالبات پورے ہوچکے ہیں‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ انتہائی غور وخوض کے بعد پارلیمنٹ نے زرعی اصلاحات کو قانونی شکل دی۔ ان اصلاحات سے نہ صرف کسانوں کے بہت سے بندھن ختم ہوئے ہیں ، بلکہ انہیں نئے حقوق ، نئے مواقع بھی ملے ہیں۔اس سلسلے میں بہت سے کسانوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان حقوق نے بہت ہی کم وقت میں کسانوں کی پریشانیوں کو کم کرنا شروع کردیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ قانون میں ایک اوربہت بڑی بات ہے کہ ان قوانین میں یہ التزامات کئے گئے ہیں کہ اس علاقے کے ایس ڈی ایم کو کسانوں کی شکایات کوایک ماہ کے اندر تدارک کرنا ہوگا۔
انہوں نے’من کی بات پروگرام‘ کی شروعات وارنسی سے چوری ہونے والی دیوی انا پورنا کی قدیم مورتی کے کینیڈا سے واپس لائے جانے کی خوشخبری سے کی۔ یہ مورتی تقریبا 100 سال پہلے وارانسی کے ایک مندر سے چرائی گئی تھی۔
مسٹر مودی نے کہا کہ ماتا اناپورنا کے مجسمے کی طرح ہی ہندوستانی ثقافتی ورثے کے بیش قیمتی چیزیں بھی بین الاقوامی گروہوں کا شکار ہوچکے ہیں۔ یہ گروہ انہیں بین الاقوامی مارکیٹ میں بہت زیادہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔ اب ان پر سختی کی جارہی ہے اور ہندوستان نے ان کی واپسی کے لئے بھی کوششیں تیز کردی ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close