Iran

ایران جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی حملے میں ہلاکت کو کبھی نہیں بھولے گا: علی خامنہ ای

ایران کے رہبرِاعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکا کے فضائی حملے میں جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کو کبھی نہیں بھولے گا اور امریکا سے اس قتل کا بدلہ لے گا۔انھوں نے یہ بات تہران میں عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔ عراقی وزیراعظم منگل کو تہران پہنچے تھے اور انھوں نے قبل ازیں ایرانی صدر حسن روحانی سے بھی ملاقات کی ہے اور ان سے دوطرفہ تعلقات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔خامنہ ای نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایک آزاد اور مضبوط عراق نہیں چاہتا ہے۔ایران عراق کے امریکا کے ساتھ دوطرفہ تعلقات میں کوئی مداخلت نہیں کرنا چاہتا ہے لیکن اپنے عراقی دوستوں سے یہ ضرور توقع کرتا ہے کہ امریکا کی کسی بھی ملک میں موجودگی کرپشن اور تباہی کا ذریعہ ہوتی ہے اور عراقیوں کو یہ بات جان لینی چاہیے۔انھوں نے مزید کہا کہ ایران نے کبھی عراق کے داخلی امور میں مداخلت کی ہے اور نہ وہ ایسا کرے گا۔وہ ایسے ہر اقدام کا مخالف ہے جس سے عراقی حکومت کم زور ہوتی ہو۔’’ایران اور عراق کے درمیان تعلقات کے فروغ کے امریکا کی قیادت میں یقینی طور پر مخالفین بھی موجود ہیں لیکن ہمیں کسی بھی طرح امریکا سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ کچھ بھی نہیں کرسکتا ہے۔‘‘ خامنہ ای کا مزید کہنا تھا۔آیت اللہ علی خامنہ ای کی گذشتہ پانچ ماہ میں کسی غیر ملکی لیڈر سے یہ پہلی ملاقات ہے۔ انھوں نے ایران میں کرونا وائرس پھیلنے کے بعد سے تنہائی اختیار کررکھی ہے۔واضح رہے کہ ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کی بیرون ملک فوجی کارروائیوں کی ذمے دار القدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی تین جنوری کو عراق کے دارالحکومت بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک امریکا کے فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ایران نے ان کی ہلاکت کے ردعمل میں چند روز کے بعد عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائل داغے تھے۔پاسداران انقلاب نے تہران سے اڑان بھرنے والے یوکرین کے ایک مسافر طیارے کو بھی میزائل سے مارگرایا تھا۔اس نے کئی روز کے انکار کے بعد یہ تسلیم کیا تھا کہ یوکرینی طیارہ غلطی سے میزائل کا نشانہ بن گیا تھا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close