China

کورونا وائرس: چین میں 80 ہلاکتوں اور 2744 متاثرہ افراد کی تصدیق

چین میں مقامی حکام نے پیر کے روز اعلان میں بتایا ہے کہ وسطی صوبے ہوبی میں کورونا وائرس سے متاثر مزید 24 افراد کے فوت ہو جانے کے بعد اس وبا کے نتیجے میں اب تک ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 80 تک پہنچ گئی ہے۔ہوبی صوبے میں کورونا سے متاثر مزید 371 کیس ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اس طرح حکومتی اعداد و شمار کے مطابق چین کے تمام علاقوں میں اس مہلک وبا میں مبتلا افراد کی مجموعی تعداد 2744 ہو گئی ہے۔ ان میں 1423 افراد کا تعلق ہوبی صوبے سے ہے۔
چین کے علاوہ متعدد ممالک مثلا جاپان، فرانس اور امریکا وغیرہ میں اس نئے وائرس کے کیسوں کا اندراج سامنے آیا ہے۔دوسری جانب سعودی عرب اور امارات کے بعد بحرین، سوڈان، عراق، فلسطین، لبنان اور مراکش نے بھی تصدیق کی ہے کہ اب تک ان کے یہاں کورونا کا کوئی کیس ریکارڈ نہیں ہوا۔چین میں فلسطینی کمیونٹی کے سربراہ اور عراقی وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ چین میں موجود فلسطینی اور عراقی شہریوں میں کورونا وائرس ظاہر نہیں ہوا ہے۔عراقی وزارت خارجہ چینی حکام کے ساتھ رابطہ کاری کے ذریعے عراقی طلبہ کو ووہان شہر سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ادھر کویت نے ایک اعلان میں بتایا ہے کہ اس نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب احتیاطی اقدام کے طور پر چین میں اپنے سفارت کاروں کے اہل خانہ کو واپس بلا لیا ہے۔موریتانیہ کی وزارت صحت کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا مقابلہ کرنے کے لے احتیاطی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ہوائی اڈوں پر طبی ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں۔ طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ چین میں آفت زدہ علاقے سے موریتانیہ کے چھ شہریوں کو نکال لیا گیا ہے۔مراکش کی وزارت خارجہ کے مطابق چینی حکام نے اسے آگاہ کیا ہے کہ چین میں مقیم مراکش کے شہریوں کو وائرس سے محفوظ رکھنے کو یقینی بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ چین میں مراکش کے سفارت خانے نے خصوصی ای میل اور ٹیلیفون نمبروں کو مختص کیا ہے۔ ان کے ذریعے چین میں موجود مراکشی شہری اور طلبہ مدد طلب کر سکتے ہیں۔کورونا وائرس گذشتہ سال کے آخر میں وسطی چین کے صوبے ہوبی کے ووہان شہر میں ظاہر ہوا تھا۔ اس کے بعد یہ پھیلتے ہوئے بیجنگ، شنگھائی، امریکا، تھائی لینڈ، جنوبی کوریا، جاپان، آسٹریلیا، فرانس اور کینیڈا تک پہنچ گیا ہے۔ چین کے کئی شہر اس کی لپیٹ میں ہیں۔یہ وائرس انسان کو نزلہ اور زکام سے ملتے جلتے امراض میں مبتلا کر دیتا ہے۔
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close