Oman

عمان کے سلطان قابوس بن سعید کا انتقال

عمان کے سلطان قابوس بن سعید السعید کا جمعہ کی رات انتقال ہو گیا۔ وہ 79 سال کے تھے۔
وہ 1970 سے مسلسل اس عہدے پر برقرار تھے۔ سلطان کے دفتر نے کہا کہ ان کا طویل علالت کے بعد انتقال ہو گیا۔ ان کے انتقال پر رائل کورٹ کے دیوان نے مرحوم کے انتقال پر تعزیتی پیغام جاری کیا۔
تعزیتی پیغام میں کہا گیا کہ ’’14 ویں جمادى الاول سلطان قابوس بن سعید کا جمعہ کی شب انتقال ہو گیا۔ گزشتہ 50 برسوں میں ایک وسیع نشاۃ ثانیہ کے قیام کے بعد سے انہوں نے 23 جولائی 1970 کو اقتدار سنبھالا تھا۔ اس نشاۃ ثانیہ کے نتیجے میں ایک متوازن خارجہ پالیسی عمل میں آئی جسے پوری دنیا نے احترام کے ساتھ سراہا‘‘۔
رائل کورٹ کے دیوان نے سلطان سعید کی موت پر تین دن کے قومی سوگ کا اعلان کیا۔

سلطان قابوس کون تھے؟

سلطان قابوس بن سعید سلطنت عُمان کے آل ابو سعید خاندان کے آٹھویں فرمانروا تھے۔ آل سعید خاندان نے سنہ 1741ء کو امام احمد بن سعید کے دور میں سلطنت قائم کی۔ سلطان قابوس اس سلسلے کی آٹھویں کڑی سمجھے جاتے تھے۔

سلطان قابوس 18 نومبر 1940ء کو ظفار گونری کے صلالہ شہر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اومان ہی سے حاصل کی۔ سنہ 1960ء کو انہوں نے برطابوی شاہی ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے بعد مغربی جرمنی میں برطانوی پیادہ فوج میں کچھ عرصہ تربیت حاصل کی۔

سنہ 1964ء میں وطن واپسی کے بعد انہوں نے اسلامی شرعی علوم، اسلامی تہذیب اور سلطنت کی تاریخ کے شعبے میں تعلیم حاصل کی۔

سلطان قابوس نے 23 جولائی 1970ء کو اقتدار سنبھالا۔ اس دوران انہوں نے ملک میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کیں۔ ان کی سیاسی، اقتصادی، عسکری، سماجی اور ثقافتی اصلاحات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔

سماجی بہبود اور امن کے لیے علاقائی اور عالمی سطح پر ان کی خدمات پر انہیں کئی ایوارڈز بھی دئے گئے۔ سنہ 2007ء میں انہیں عالمی مفاہمتی مساعی کے اعتراف میں جواہر لعل نہرو ایوارڈ بھی دیا گیا جب کہ اس سے قبل سنہ 1998ء میں انہیں روسی بین الاقوامی اسمبلی کی طرف سے عالمی امن ایوارڈ جاری کیا تھا۔

انہیں سنہ 1971ء کو سعودی عرب کی طرف سے شاہ عبدالعزیز آل سعود ایوارڈ اور 2009ء میں کویت کے مبارک الکبیر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close