Bahrain

بحرین : دہشت گردی اور امامِ مسجد کے قتل میں ملوث 3 افراد کو سزائے موت

بحرین میں سرکاری استغاثہ نے ہفتے کی صبح اعلان میں بتایا کہ دہشت گردی اور ایک مسجد کے امام کے قتل میں مجرم قرار دیے جانے والے 3 افراد کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔

دہشت گردی سے متعلق جرائم کے استغاثہ کے سربراہ ڈاکٹر احمد الحمادی کے مطابق دو مختلف مقدمات میں قصور وار ٹھہرائے جانے والے تین مجرمان کی سزائے موت پر آج صبح عمل درامد ہوا۔ اس حوالے سے پہلے مقدمے کے الزامات میں دہشت گرد جماعت میں شمولیت، قتل کے جرائم کا ارتکاب اور دہشت گردی کی نیت سے دھماکا خیز مواد اور آتشی ہتھیاروں کا قبضے میں رکھنا شامل ہے۔ دوسرے مقدمے کا تعلق مسجد بن شدہ کے امام سے ہے جس کو مسجد کے مؤذن نے قتل کر کے اس کی لاش کی بے حرمتی کی تھی۔

بحرین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پہلے مقدمے کی تفصیلات ایک دہشت گرد تنظیم کے قیام سے متعلق ہیں۔ اس تنظیم کے قیام میں ایران ، عراق اور جرمنی کے 12 جب کہ بحرین کے اندر 46 ملزمان شامل رہے۔ تنظیم نے بحرین میں متعدد مجرمانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی۔ تنظیم کے ارکان کو بحرین اسمگل کیے جانے والے ہتھیاروں اور گولہ بارود کے علاوہ مطلوبہ مالی رقوم بھی فراہم کی گئیں۔ تنظیم کے متعدد ارکان کو تربیت کے لیے عراق اور ایران بھیجا گیا جہاں انہوں نے پاسداران انقلاب کے کیمپوں میں دھماکا خیز مواد اور آتشی ہتھیاروں کا استعمال سیکھا۔سیکورٹی اداروں نے متعدد ملزمان کو گرفتار کیا اور ان کے رہنے کے مقامات کی تلاشی لی۔ اس دوران گولہ بارود کی بڑی مقدار اور آتشی اسلحے کی بڑی تعداد برآمد کر لی گئی۔ اس کے علاوہ متعدد گاڑیاں اور سمندری کشتیاں بھی قبضے میں لی گئیں۔ ان تمام چیزوں کو بحرین میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال کیا جانا تھا۔سرکاری استغاثہ نے براہ راست تحقیقات کیں جس کے نتیجے میں ثابت ہو گیا کہ ملزمان نے مملکت بحرین میں امن و امان کو تباہ کرنے کے واسطے ایک دہشت گرد جماعت تشکیل دی اور اس میں شمولیت اختیار کی۔ جماعت کے ارکان نے جو کارروائیاں انجام دیں ان میں ہتھیاروں اور گولہ بارود کی اسمگلنگ، جماعت کے متعدد سزا یافتہ سنگین دہشت گردوں کو جیل سے فرار ہونے میں معاونت، بحرین کی پولیس کے اہل کاروں پر حملے، پولیس افسر کا قتل اور ملک سے باہر فرار ہونے کی کوشش شامل ہے۔تمام ملزمان کو فوجداری کی بڑی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں پر مقدمے کی کارروائی ہوئی۔ عدالت نے دو ملزمان کو سزائے موت کے علاوہ انیس کو عمر قید، سترہ کو 15 برس قید، نو کو 10 برس قید اور گیارہ کو 5 برس قید کی سزا سنائی۔ دو ملزمان کو بری کر دیا گیا۔ اس سلسلے میں ہونے والی اپیل کو کورٹ آف کیسیشن نے مسترد کر دیا اور عدالتی فیصلہ برقرار رہا۔دوسرا مقدمہ بحرین کی ایک مسجد کے امام کے قتل سے متعلق تھا۔ مسجد بن شدہ کے امام کو مسجد کے ہی مؤذن نے قتل کر کے لاش کے ٹکڑے کر دیے۔ اس پر سرکاری استغاثہ نے اس جرم کی مکمل تحقیقات کیں۔ مسجد کے مؤذن کو فوجداری عدالت میں پیش کیا گیا۔

عدالت نے ملزم (قاتل) کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ سنایا۔ ملزم نے فیصلے کے خلاف اپیل کی تاہم کورٹ آف کیسیشن نے اپیل مسترد کرتے ہوئے سزائے موت کے فیصلے کی توثیق کی۔

آج ہفتے کی صبح سزائے موت پانے والے تینوں مجرموں کو فائرنگ کے ذریعے موت کی نیند سُلا دیا گیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close